Friday, September 05, 2014

یادیں

گزری یادیں ، بھولی باتیں 
لوٹ کے آتی ہیں 

پیار کے لمحے، سارے  سپنے 
یاد کراتی  ہیں 

دل میں جیسے پھول کھلے ہوں 
ایسا لگتا ہے 

ساری  خوشیاں  لوٹ آئی  ہوں 
ایسا لگتا ہے 

وقت گزرتا جاتا ہے، روپ بدلتے جاتے ہیں 
لیکن کچھ لمحے ایسے ہیں ساتھ نبھاتے ہیں 

کتنے دریا ، کتنے دیس ، کتنی یادیں  ، کتنے بھیس 
کیسی کیسی تصویریں اور کتنی باتیں ہیں 

برسوں بیتے ، شامیں آئیں ، صبحیں گزر گیئں 
میرے دل کے آئنے میں کل کی باتیں ہیں 

لوٹ کے آئین ، دل بہلائیں، میری آس  بڑھائیں 
میرا کل سرمایا میری میٹھی یادیں ہیں 

No comments:

Post a Comment